کلامِ میرردیف ے
سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے
۱
سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہےتس پہ یہ جان بہ لب آمدہ بھی محزوں ہے
۲
اس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیوں کر تابچشم اعجاز مژہ سحر نگہ افسوں ہے
۳
آہ یہ رسم وفا ہووے بر افتاد کہیںاس ستم پر بھی مرا دل اسی کا ممنوں ہے
۴
کبھو اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک ابر تنکگرد نمناک پریشاں شدۂ مجنوں ہے
۵
کیونکے بے بادہ لب جو پہ چمن میں رہیےعکس گل آب میں تکلیف مئے گلگوں ہے
۶
پار بھی ہو نہ کلیجے کے تو پھر کیا بلبلمصرع نالہ جگر کاوی ہے گو موزوں ہے
۷
شہر کتنا جو کوئی ان میں سرشک افشاں ہورو کش گریۂ غم حوصلۂ ہاموں ہے
۸
خون ہر یک رقم شوق سے ٹپکے تھا ولےوہ نہ سمجھا کہ مرے نامے کا کیا مضموں ہے
۹
میرؔ کی بات پہ ہر وقت یہ جھنجھلایا نہ کرسڑی ہے خبطی ہے وہ شیفتہ ہے مجنوں ہے
۲۹۱ / ۵۸۲