کلامِ میرردیف ے

فلک کرنے کے قابل آسماں ہے

۱

فلک کرنے کے قابل آسماں ہےکہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے

۲

گئے ان قافلوں سے بھی اٹھی گردہماری خاک کیا جانیں کہاں ہے

۳

بہت نا مہرباں رہتا ہے یعنیہمارے حال پر کچھ مہرباں ہے

۴

ہمیں جس جائے کل غش آ گیا تھاوہیں شاید کہ اس کا آستاں ہے

۵

مژہ ہر اک ہے اس کی تیز ناوکخمیدہ بھوں جو ہے زوریں کماں ہے

۶

اسے جب تک ہے تیر اندازی کا شوقزبونی پر مری خاطر نشاں ہے

۷

چلی جاتی ہے دھڑکوں ہی میں جاں بھییہیں سے کہتے ہیں جاں کو رواں ہے

۸

اسی کا دم بھرا کرتے رہیں گےبدن میں اپنے جب تک نیم جاں ہے

۹

پڑا ہے پھول گھر میں کاہے کو میرؔجھمک ہے گل کی برق آشیاں ہے

۲۹۷ / ۵۸۲