کلامِ میرردیف ے
عشق میں نے خوف و خطر چاہیے
۱
عشق میں نے خوف و خطر چاہیےجان کے دینے کو جگر چاہیے
۲
قابل آغوش ستم دیدگاںاشک سا پاکیزہ گہر چاہیے
۳
حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سےاٹھتے پلک ایک پہر چاہیے
۴
کم ہے شناسائے زر داغ دلاس کے پرکھنے کو نظر چاہیے
۵
سینکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاںواقعہ اک شام و سحر چاہیے
۶
عشق کے آثار ہیں اے بوالہوسداغ بہ دل دست بسر چاہیے
۷
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میںعیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
۸
جیسے جرس پارہ گلو کیا کروںنالہ و افغاں میں اثر چاہیے
۹
خوف قیامت کا یہی ہے کہ میرؔہم کو جیا بار دگر چاہیے
۲۹۸ / ۵۸۲