کلامِ میرردیف ے
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
۱
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہےیاں سلیماں کے مقابل مور ہے
۲
مر گئے پر بھی ہے صولت فقر کیچشم شیر اپنا چراغ گور ہے
۳
جب سے کاغذ باد کا ہے شوق اسےایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے
۴
رہنمائی شیخ سے مت چشم رکھوائے وہ جس کا عصا کش کور ہے
۵
لے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑاصبح کی بھی باؤ بادی چور ہے
۶
دل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرفکیونکے کہیے حق ہماری اور ہے
۷
تھا بلا ہنگامہ آرا میرؔ بھیاب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے
۲۹۹ / ۵۸۲