کلامِ میرردیف ے

غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے

۱

غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہےاس کتے نے کر کے دلیری صید حرم کو مارا ہے

۲

باغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نےہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے

۳

جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سےہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے

۴

راہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھرروئے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے

۵

کام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میںچشم کو میری آ کر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے

۶

بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھاآئی نسیم صبح جو ادھر پھیلا عنبر سارا ہے

۷

کس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیامدت گزری دیکھتے ہم کو میرؔ بھی اک ناکارہ ہے

۳۰۰ / ۵۸۲