کلامِ میرردیف ے

قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے

۱

قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگےہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے

۲

اٹھائیں تیرے لیے بد زبانیاں ان کیجنہوں کی ہم کو خوشامد سے ننگ تھا آگے

۳

ہماری آہوں سے سینے پہ ہو گیا بازارہر ایک زخم کا کوچہ جو تنگ تھا آگے

۴

رہا تھا شمع سے مجلس میں دوش کتنا فرقکہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے

۵

کیا خراب تغافل نے اس کے ورنہ میرؔہر ایک بات پہ دشنام و سنگ تھا آگے

۳۰۲ / ۵۸۲