کلامِ میرردیف ے

مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے

۱

مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہےقرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہے

۲

عریانیٔ آشفتہ کہاں جائے پس از مرگکشتہ ہے ترا اور یہی بے کفنی ہے

۳

سمجھے ہے نہ پروانہ نہ تھامے ہے زباں شمعوہ سوختنی ہے تو یہ گردن زدنی ہے

۴

لیتا ہی نکلتا ہے مرا لخت جگر اشکآنسو نہیں گویا کہ یہ ہیرے کی کنی ہے

۵

بلبل کی کف خاک بھی اب ہوگی پریشاںجامے کا ترے رنگ ستم گر چمنی ہے

۶

کچھ تو ابھر اے صورت شیریں کہ دکھاؤںفرہاد کے ذمے بھی عجب کوہ کنی ہے

۷

ہوں گرم سفر شام غریباں سے خوشی ہوںاے صبح وطن تو تو مجھے بے وطنی ہے

۸

ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکنان بو الہوسوں میں کوئی مجھ سا بھی غنی ہے

۹

ہر اشک مرا ہے در شہوار سے بہترہر لخت جگر رشک عقیق یمنی ہے

۱۰

بگڑی ہے نپٹ میرؔ تپش اور جگر میںشاید کہ مرے جی ہی پر اب آن بنی ہے

۳۰۴ / ۵۸۲