کلامِ میرردیف ے

نالۂ عجز نقص الفت ہے

۱

نالۂ عجز نقص الفت ہےرنج و محنت کمال راحت ہے

۲

عشق ہی گریۂ ندامت ہےورنہ عاشق کو چشم خفت ہے

۳

تا دم مرگ غم خوشی کا نہیںدل آزردہ گر سلامت ہے

۴

دل میں ناسور پھر جدھر چاہےہر طرف کوچۂ جراحت ہے

۵

رونا آتا ہے دم بدم شایدکسو حسرت کی دل سے رخصت ہے

۶

فتنے رہتے ہیں اس کے سائے میںقد و قامت ترا قیامت ہے

۷

نہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبردل پہ میرے عجب مصیبت ہے

۸

تو تو نادان ہے نپٹ ناصحکب مؤثر تری نصیحت ہے

۹

دل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہراکہ مجھے خوش دلی اذیت ہے

۱۰

رنج و محنت سے باز کیونکے رہوںوقت جاتا رہے تو حسرت ہے

۱۱

کیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانودم غنیمت میاں جو فرصت ہے

۱۲

تیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھےچاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے

۱۳

تجھ کو مسجد ہے مجھ کو مے خانہواعظا اپنی اپنی قسمت ہے

۱۴

ایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہشمع مجلس کی رونی صورت ہے

۱۵

باطل السحر دیکھ باطل تھےتیری آنکھوں کا سحر آفت ہے

۱۶

ابر تر کے حضور پھوٹ بہادیدۂ تر کو میرے رحمت ہے

۱۷

گاہ نالاں تپاں گہے بے دمدل کی میرے عجب ہی حالت ہے

۱۸

کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئیعاقبت قصۂ محبت ہے

۱۹

تربت میرؔ پر ہیں اہل سخنہر طرف حرف ہے حکایت ہے

۲۰

تو بھی تقریب فاتحہ سے چلبخدا واجب الزیارت ہے

۳۰۵ / ۵۸۲