کلامِ میرردیف ے

ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے

۱

ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہےٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے

۲

گر اس چمن میں وہ بھی اک ہی لب و دہاں ہےلیکن سخن کا تجھ سے غنچے کو منہ کہاں ہے

۳

ہنگام جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہناچتون ہے دل کی آفت چشمک بلائے جاں ہے

۴

پتھر سے توڑنے کے قابل ہے آرسی توپر کیا کریں کہ پیارے منہ تیرا درمیاں ہے

۵

باغ و بہار ہے وہ میں کشت زعفراں ہوںجو لطف اک ادھر ہے تو یاں بھی اک سماں ہے

۶

ہر چند ضبط کریے چھپتا ہے عشق کوئیگزرے ہے دل پہ جو کچھ چہرے ہی سے عیاں ہے

۷

اس فن میں کوئی بے تہہ کیا ہو مرا معارضاول تو میں سند ہوں پھر یہ مری زباں ہے

۸

عالم میں آب و گل کا ٹھہراؤ کس طرح ہوگر خاک ہے اڑے ہے ور آب ہے رواں ہے

۹

چرچا رہے گا اس کا تا حشر مے کشاں میںخوں ریزی کی ہماری رنگین داستاں ہے

۱۰

از خویش رفتہ اس بن رہتا ہے میرؔ اکثررہتے ہو بات کس سے وہ آپ میں کہاں ہے

۳۰۶ / ۵۸۲