کلامِ میرردیف ے
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہے
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہےٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے
اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہےکل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے
اب کی ہوائے گل میں سیرابی ہے نہایتجوے چمن پہ سبزہ مژگان چشم تر ہے
اے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہمدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے
شمع اخیر شب ہوں سن سر گذشت میریپھر صبح ہوتے تک تو قصہ ہی مختصر ہے
اب رحم پر اسی کے موقوف ہے کہ یاں تونے اشک میں سرایت نے آہ میں اثر ہے
تو ہی زمام اپنی ناکے تڑا کہ مجنوںمدت سے نقش پا کے مانند راہ پر ہے
ہم مست عشق واعظ بے ہیچ بھی نہیں ہیںغافل جو بے خبر ہیں کچھ ان کو بھی خبر ہے
اب پھر ہمارا اس کا محشر میں ماجرا ہےدیکھیں تو اس جگہ کیا انصاف داد گر ہے
آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میںجوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے
کر میرؔ اس زمیں میں اور اک غزل تو موزوںہے حرف زن قلم بھی اب طبع بھی ادھر ہے
۳۰۷ / ۵۸۲