کلامِ میرردیف ے

نہیں وسواس جی گنوانے کے

۱

نہیں وسواس جی گنوانے کےہائے رے ذوق دل لگانے کے

۲

میرے تغییر حال پر مت جااتفاقات ہیں زمانے کے

۳

دم آخر ہی کیا نہ آنا تھااور بھی وقت تھے بہانے کے

۴

اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیںڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے

۵

بس ہیں دو برگ گل قفس میں صبانہیں بھوکے ہم آب و دانے کے

۶

مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحببندے ہیں اپنے جی چلانے کے

۷

اب گریباں کہاں کہ اے ناصحچڑھ گیا ہاتھ اس دوانے کے

۸

چشم نجم سپہر جھپکے ہےصدقے اس انکھڑیاں لڑانے کے

۹

دل و دیں ہوش و صبر سب ہی گئےآگے آگے تمہارے آنے کے

۱۰

کب تو سوتا تھا گھر مرے آ کرجاگے تالا غریب خانے کے

۱۱

مژہ ابرو نگہ سے اس کی میرؔکشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے

۱۲

تیر و تلوار و سیل یکجا ہیںسارے اسباب مار جانے کے

۳۰۸ / ۵۸۲