کلامِ میرردیف ے

کب تلک جی رکے خفا ہووے

۱

کب تلک جی رکے خفا ہووےآہ کریے کہ ٹک ہوا ہووے

۲

جی ٹھہر جائے یا ہوا ہووےدیکھیے ہوتے ہوتے کیا ہووے

۳

کر نمک سود سینۂ مجروحجی میں گر ہے کہ کچھ مزہ ہووے

۴

کاہش دل کی کیجیے تدبیرجان میں کچھ بھی جو رہا ہووے

۵

چپ کا باعث ہے بے تمنائیکہیے کچھ بھی تو مدعا ہووے

۶

بیکلی مارے ڈالتی ہے نسیمدیکھیے اب کے سال کیا ہووے

۷

مر گئے ہم تو مر گئے تو جیدل گرفتہ تری بلا ہووے

۸

عشق کیا ہے درست اے ناصحجانے وہ جس کا دل لگا ہووے

۹

پھر نہ شیطاں سجود آدم سےشاید اس پردے میں خدا ہووے

۱۰

نہ سنا رات ہم نے اک نالہغالباً میرؔ مر رہا ہووے

۳۰۹ / ۵۸۲