کلامِ میرردیف ے
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
۱
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہےپات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
۲
رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہے جیسے شراب چواتے ہیںآگے ہو مے خانے کے نکلو عہد بادہ گساراں ہے
۳
عشق کے میداں داروں میں بھی مرنے کا ہے وصف بہتیعنی مصیبت ایسی اٹھانا کار کار گزاراں ہے
۴
دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے آنسو سارے خون ہوئےلوہو پانی ایک کرے یہ عشق لالہ عذاراں ہے
۵
کوہ کن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئےعشق میں ہم کو میرؔ نہایت پاس عزت داراں ہے
۳۱۰ / ۵۸۲