کلامِ میرردیف ے
ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے
۱
ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کےبو گئی کچھ دماغ میں گل کے
۲
جائے روغن دیا کرے ہے عشقخون بلبل چراغ میں گل کے
۳
دل تسلی نہیں صبا ورنہجلوے سب ہیں گے داغ میں گل کے
۴
اس حدیقے کے عیش پر مت جامے نہیں ہے ایاغ میں گل کے
۵
سیر کر میرؔ اس چمن کی شتابہے خزاں بھی سراغ میں گل کے
۳۱۱ / ۵۸۲