کلامِ میرردیف ے

چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے

۱

چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہےاک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے

۲

میں اور تو ہیں دونوں مجبور طور اپنےپیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے

۳

روئے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یا ربسب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے

۴

کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاںدل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے

۵

حسن ان بھی معینوں کا تھا آپ ہی صورتوں میںاس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے

۶

شادی سے غم جہاں میں وہ چند ہم نے پایاہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے

۷

ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکنہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے

۸

ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے

۹

نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساںجی ڈوبتا ہے اس کا جو تہہ سے آشنا ہے

۱۰

مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبرجس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے

۱۱

تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کرجوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے

۱۲

ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکنجس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے

۱۳

پھرتے ہو میرؔ صاحب سب سے جدے جدے تمشاید کہیں تمہارا دل ان دنوں لگا ہے

۳۱۲ / ۵۸۲