کلامِ میرردیف ے
پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے
پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہےکیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے
سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہتسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے
دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑواترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے
ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارےپر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے
عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتیچپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے
دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالمکچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے
ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختر رز آفتکیا پیر مغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے
خوں ریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیںکب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے
جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھیجوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے
ان مغبچوں میں زاہد پھر سر زدہ مت آنامندیل تری اب کے ہم نے تو بچا لی ہے
کیا میرؔ تو روتا ہے پامالیٔ دل ہی کوان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے
۳۱۳ / ۵۸۲