کلامِ میرردیف ے
چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے
۱
چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نےاس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے
۲
حسرت لطف عزیزان چمن جی میں رہیسر پہ دیکھا نہ گل و سرو کا سایہ ہم نے
۳
جی میں تھا عرش پہ جا باندھئے تکیہ لیکنبسترہ خاک ہی میں اب تو بچھایا ہم نے
۴
بعد یک عمر کہیں تم کو جو تنہا پایاڈرتے ڈرتے ہی کچھ احوال سنایا ہم نے
۵
یاں فقط ریختہ ہی کہنے نہ آئے تھے ہمچار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے
۶
بارے کل باغ میں جا مرغ چمن سے مل کرخوبی گل کا مزہ خوب اڑایا ہم نے
۷
تازگی داغ کی ہر شام کو بے ہیچ نہیںآہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے
۸
دشت و کہسار میں سر مار کے چندے تجھ بنقیس و فرہاد کو پھر یاد دلایا ہم نے
۹
بیکلی سے دل بیتاب کی مر گزرے تھےسو تہ خاک بھی آرام نہ پایا ہم نے
۱۰
یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میرؔدل خس و خار سے ناچار لگایا ہم نے
۳۱۴ / ۵۸۲