کلامِ میرردیف ے
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
۱
کوفت سے جان لب پہ آئی ہےہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
۲
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفترشوق نے بات کیا بڑھائی ہے
۳
آرزو اس بلند و بالا کیکیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
۴
دیدنی ہے شکستگی دل کیکیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
۵
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لبیعنی اک بات سی بنائی ہے
۶
دل سے نزدیک اور اتنا دورکس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
۷
بے ستوں کیا ہے کوہ کن کیساعشق کی زور آزمائی ہے
۸
جس مرض میں کہ جان جاتی ہےدلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
۹
یاں ہوئے خاک سے برابر ہمواں وہی ناز و خود نمائی ہے
۱۰
ایسا موتیٰ ہے زندۂ جاویدرفتۂ یار تھا جب آئی ہے
۱۱
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔکیا دوانے نے موت پائی ہے
۳۱۶ / ۵۸۲