کلامِ میرردیف ے

کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے

۱

کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سےآئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے

۲

تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہمجی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے

۳

جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاںرکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے

۴

کیا خوبی اس کے منہ کی اے غنچہ نقل کریےتو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے وہاں سے

۵

آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہوحیران ہوں یہ شوخی آئی تمہیں کہاں سے

۶

سبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنےدلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے

۷

کی شست و شوبدن کی جس دن بہت سی ان نےدھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے

۸

خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت ابہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے

۹

اتنی بھی بد مزاجی ہر لحظہ میرؔ تم کوالجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے

۳۱۸ / ۵۸۲