کلامِ میرردیف ے

کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے

۱

کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوےالٰہی اس بلائے ناگہاں پر بھی بلا آوے

۲

رکا جاتا ہے جی اندر ہی اندر آج گرمی سےبلا سے چاک ہی ہو جاوے سینہ ٹک ہوا آوے

۳

ترا آنا ہی اب مرکوز ہے ہم کو دم آخریہ جی صدقے کیا تھا پھر نہ آوے تن میں یا آوے

۴

یہ رسم آمد و رفت دیار عشق تازہ ہےہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے

۵

اسیری نے چمن سے میری دل گرمی کو دھو ڈالاوگرنہ برق جا کر آشیاں میرا جلا آوے

۶

امید رحم ان سے سخت نافہمی ہے عاشق کییہ بت سنگیں دلی اپنی نہ چھوڑیں گر خدا آوے

۷

یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہوتو زاہد پیر نا بالغ ہے بے تہ تجھ کو کیا آوے

۸

ہمارے دل میں آنے سے تکلف غم کو بے جا ہےیہ دولت خانہ ہے اس کا وہ جب چاہے چلا آوے

۹

برنگ بوئے غنچہ عمر اک ہی رنگ میں گزرےمیسر میرؔ صاحب گر دل بے مدعا آوے

۳۱۹ / ۵۸۲