کلامِ میرردیف ے

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

۱

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہےزمیں سخت ہے آسماں دور ہے

۲

جرس راہ میں جملہ تن شور ہےمگر قافلے سے کوئی دور ہے

۳

تمنائے دل کے لیے جان دیسلیقہ ہمارا تو مشہور ہے

۴

نہ ہو کس طرح فکر انجام کاربھروسہ ہے جس پر سو مغرور ہے

۵

پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہکسو کا مگر خون منظور ہے

۶

دل اپنا نہایت ہے نازک مزاجگرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے

۷

کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دلوہی بے قراری بدستور ہے

۸

نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھومگر چشم خوں بار ناسور ہے

۹

تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھنہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے

۱۰

بہت سعی کریے تو مر رہیے میرؔبس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے

۳۲۰ / ۵۸۲