کلامِ میرردیف ے

کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے

۱

کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سےکیا کیا نہ ابر آ کر یاں زور زور برسے

۲

وحشت سے میری یارو خاطر نہ جمع رکھیوپھر آوے یا نہ آوے نو پر اٹھا جو گھر سے

۳

اب جوں سرشک ان سے پھرنے کی چشم مت رکھجو خاک میں ملے ہیں گر کر تری نظر سے

۴

دیدار خواہ اس کے کم ہوں تو شور کم ہوہر صبح اک قیامت اٹھتی ہے اس کے در سے

۵

داغ ایک ہو جلا بھی خوں ایک ہو بہا بھیاب بحث کیا ہے دل سے کیا گفتگو جگر سے

۶

دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختے کےبہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے

۷

انجام کار بلبل دیکھا ہم اپنی آنکھوںآوارہ تھے چمن میں دو چار ٹوٹے پر سے

۸

بے طاقتی نے دل کی آخر کو مار رکھاآفت ہمارے جی کی آئی ہمارے گھر سے

۹

دل کش یہ منزل آخر دیکھا تو آہ نکلیسب یار جا چکے تھے آئے جو ہم سفر سے

۱۰

آوارہ میرؔ شاید واں خاک ہو گیا ہےیک گرد اٹھ چلے ہے گاہ اس کی رہ گزر سے

۳۲۱ / ۵۸۲