کلامِ میرردیف ے

کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہے

۱

کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہےزاہد جو صفت تجھ میں ہے سوزن جلبی ہے

۲

اس دشت میں اے سیل سنبھل ہی کے قدم رکھہر سمت کو یاں دفن مری تشنہ لبی ہے

۳

ہر اک سے کہا نیند میں پر کوئی نہ سمجھاشاید کہ مرے حال کا قصہ عربی ہے

۴

عزلت سے نکل شیخ کہ تیرے لیے تیارکوئی ہفت گزی میخ کوئی دہ وجبی ہے

۵

اے چرخ نہ تو روز سیہ میرؔ پہ لانابیچارہ وہ اک نعرہ زن نیم شبی ہے

۳۲۲ / ۵۸۲