کلامِ میرردیف ے
کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے
کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سےپردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے
صورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے توکھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے
سوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کےجلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے
طاعت کا وقت گزرا مستی میں آب رز کیاب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے
کڑھیے نہ روئیے تو اوقات کیونکے گزرےرہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے
مشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسیپر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے
بات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کوبالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے
کیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھےتب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے
ہستی میں ہم نے آ کر آسودگی نہ دیکھیکھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے
پامال کر کے ہم کو پچھتاؤ گے بہت تمکم یاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے
دل دو ہو میرؔ صاحب اس بد معاش کو تمخاطر تو جمع کر لو ٹک قول سے قسم سے
۳۲۳ / ۵۸۲