کلامِ میرردیف ے
کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے
۱
کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہےسنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے
۲
ٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگاالٰہی چشم یا زخم کہن ہے
۳
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آجنپٹ آوارہ بوئے پیرہن ہے
۴
نہیں دامن میں لالہ بے ستوں کےکوئی دل داغ خون کوہ کن ہے
۵
شہادت گاہ ہے باغ زمانہکہ ہر گل اس میں اک خونیں کفن ہے
۶
کروں کیا حسرت گل کو وگرنہدل پر داغ بھی اپنا چمن ہے
۷
جو دے آرام ٹک آوارگی میرؔتو شام غربت اک صبح وطن ہے
۳۲۴ / ۵۸۲