کلامِ میرردیف ے
گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے
۱
گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سےیہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے
۲
وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاںمرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے
۳
کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کےیہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے
۴
پشیمان توبہ سے ہوگا عدم میںکہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے
۵
نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میںکدورت مجھے ہے نہایت صبا سے
۶
جگر سوئی مژگاں کھنچا جائے ہے کچھمگر دیدۂ تر ہیں لوہو کے پیاسے
۷
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہےتعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے
۸
طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھاہوا درد عشق آہ دونا دوا سے
۹
ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کرکہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے
۱۰
نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایتکہو میرؔ جی آج کیوں ہو خفا سے
۳۲۵ / ۵۸۲