کلامِ میرردیف ے

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

۱

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئےچپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے

۲

اٹھے نقاب جہاں سے یا رب جس سے تکلف بیچ میں ہےجب نکلے اس راہ سے ہو کر منہ تم ہم سے چھپائے گئے

۳

کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کیتم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو وہ ہیں لگائے گئے

۴

صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوسکیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے

۵

اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہمآنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے

۶

آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سایعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے

۷

ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہےکشتے اس کی تیغ ستم کے گور تئیں کب لائے گئے

۸

خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیںکھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے

۹

مرنے سے کیا میرؔ جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریےجی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے

۳۲۶ / ۵۸۲