کلامِ میرردیف ے
کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے
کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئےچپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے
اٹھے نقاب جہاں سے یا رب جس سے تکلف بیچ میں ہےجب نکلے اس راہ سے ہو کر منہ تم ہم سے چھپائے گئے
کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کیتم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو وہ ہیں لگائے گئے
صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوسکیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے
اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہمآنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے
آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سایعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے
ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہےکشتے اس کی تیغ ستم کے گور تئیں کب لائے گئے
خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیںکھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے
مرنے سے کیا میرؔ جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریےجی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے
۳۲۶ / ۵۸۲