کلامِ میرردیف ے
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
۱
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
۲
جن کی خاطر کی استخواں شکنیسو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
۳
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میںہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
۴
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیںان دنوں تم بہت شریر ہوئے
۵
اپنے روتے ہی روتے صحرا کےگوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
۶
ایسی ہستی عدم میں داخل ہےنے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے
۷
ایک دم تھی نمود بود اپنییا سفیدی کی یا اخیر ہوئے
۸
یعنی مانند صبح دنیا میںہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے
۹
مت مل اہل دول کے لڑکوں سےمیرؔ جی ان سے مل فقیر ہوئے
۳۲۷ / ۵۸۲