کلامِ میرردیف ے
یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے
یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووےمر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے
زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائےپر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے
اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سردیہ باؤ کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے
صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سےکوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے
پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہماراشرمندۂ یک گوشۂ دستار نہ ہووے
مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالمیا رب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے
کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہیصورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے
ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمنبہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے
خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکوروبے جرم کہیں ان کا گنہ گار نہ ہووے
باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کویہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے
چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے توپر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے
صحرائے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میرؔیہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے
۳۲۸ / ۵۸۲