کلامِ میرردیف ے
ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے
۱
ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سےچھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے
۲
مند گئی آنکھ ہے اندھیرا پاکروشنی ہے سو یاں مرے دم سے
۳
تم جو دل خواہ خلق ہو ہم کودشمنی ہے تمام عالم سے
۴
درہمی آ گئی مزاجوں میںآخر ان گیسوان درہم سے
۵
سب نے جانا کہیں یہ عاشق ہےبہہ گئے اشک دیدۂ نم سے
۶
مفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہم کوکہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے
۷
اکثر آلات جور اس سے ہوئےآفتیں آئیں اس کے مقدم سے
۸
دیکھ وے پلکیں برچھیاں چلیاںتیغ نکلی اس ابروئے خم سے
۹
کوئی بیگانہ گر نہیں موجودمنہ چھپانا یہ کیا ہے پھر ہم سے
۱۰
وجہ پردے کی پوچھیے بارےملیے اس کے کسو جو محرم سے
۱۱
درپئے خون میرؔ ہی نہ رہوہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے
۳۲۹ / ۵۸۲