کلامِ میرردیف ے

ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے

۱

ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنےپر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے

۲

میں نے اس اس صناع سے سر کھینچا ہےکہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے

۳

کشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نےہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے

۴

آہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہارآتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے

۵

دیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستیہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے

۶

کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیےاس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے

۷

عمر گزری کہ نہیں دو آدم سے کوئیجس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے

۸

تو ہے بیچارہ گدا میرؔ ترا کیا مذکورمل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے

۳۳۰ / ۵۸۲