کلامِ میرردیف ب

جو کہو تم سو ہے بجا صاحب

۱

جو کہو تم سو ہے بجا صاحبہم برے ہی سہی بھلا صاحب

۲

سادہ ذہنی میں نکتہ چیں تھے تماب تو ہیں حرف آشنا صاحب

۳

نہ دیا رحم ٹک بتوں کے تئیںکیا کیا ہائے یہ خدا صاحب

۴

بندگی ایک اپنی کیا کم ہےاور کچھ تم سے کہیے کیا صاحب

۵

مہر افزا ہے منہ تمہارا ہیکچھ غضب تو نہیں ہوا صاحب

۶

خط کے پھٹنے کا تم سے کیا شکوہاپنے طالع کا یہ لکھا صاحب

۷

پھر گئیں آنکھیں تم نہ آن پھرےدیکھا تم کو بھی واہ وا صاحب

۸

شوق رخ یاد لب غم دیدارجی میں کیا کیا مرے رہا صاحب

۹

بھول جانا نہیں غلام کا خوبیاد خاطر رہے مرا صاحب

۱۰

کن نے سن شعر میرؔ یہ نہ کہاکہیو پھر ہائے کیا کہا صاحب

۱۱۹ / ۵۸۲