کلامِ میرردیف ب

یار میرا بہت ہے یار فریب

۱

یار میرا بہت ہے یار فریبمکر ہے عہد سب قرار فریب

۲

راہ رکھتے ہیں اس کے دام سے صیدہے بلا کوئی وہ شکار فریب

۳

عہدے سے نکلیں کس طرح عاشقایک ادا اس کی ہے ہزار فریب

۴

التفات زمانہ پر مت جامیرؔ دیتا ہے روزگار فریب

۱۲۰ / ۵۸۲