کلامِ میرردیف ت

جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت

۱

جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہترونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت

۲

دست صیاد تلک بھی نہ میں پہنچا جیتابے قراری نے لیا مجھ کو تہ دام بہت

۳

ایک دو چشمک ادھر گردش ساغر کہ مدامسر چڑھی رہتی ہے یہ گردش ایام بہت

۴

دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانیہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت

۵

رہ گیا دیکھ کے تجھ چشم پہ یہ سطر مژہساقیا یوں تو پڑھے تھے میں خط جام بہت

۶

پھر نہ آئے جو ہوئے خاک میں جا آسودہغالباً زیر زمیں میرؔ ہے آرام بہت

۱۲۱ / ۵۸۲