کلامِ میرردیف چ

کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ

۱

کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ

۲

جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہاکی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ

۳

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہرمنہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ

۴

ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاںشعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ

۵

جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسنپڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ

۶

عاشقی و بے کسی و رفتگیجی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ

۷

جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شبوہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ

۸

اس کے آتش ناک رخساروں بغیرلوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ

۹

بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یارپھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ

۱۰

یارو مت اس کا فریب مہر کھاؤمیرؔ بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ

۱۳۰ / ۵۸۲