کلامِ میرردیف ح
خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح
خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرحکرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح
میں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیںمارے گئے ہیں سب یہ گنہ گار ایک طرح
منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاںکس سے ہوا دو چار وہ عیار ایک طرح
سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیںپر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح
گھر اس کے جا کے آتے ہیں پامال ہو کے ہمکریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح
گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بوآتا نہیں نظر وہ طرح دار ایک طرح
نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشناممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح
سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہاصحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح
سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہمتسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح
بن جی دئیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیںگر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میرؔ کوہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح
۱۳۱ / ۵۸۲