کلامِ میرردیف ی

آج کل بے قرار ہیں ہم بھی

۱

آج کل بے قرار ہیں ہم بھیبیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی

۲

آن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیںتحفۂ روزگار ہیں ہم بھی

۳

منا گریہ نہ کر تو اے ناصحاس میں بے اختیار ہیں ہم بھی

۴

درپئے جان ہے قراول مرگکسو کے تو شکار ہیں ہم بھی

۵

نالے کریو سمجھ کے اے بلبلباغ میں یک کنار ہیں ہم بھی

۶

مدعی کو شراب ہم کو زہرعاقبت دوست دار ہیں ہم بھی

۷

مضطرب گریہ ناک ہے یہ گلبرق ابر بہار ہیں ہم بھی

۸

گر زخود رفتہ ہیں ترے نزدیکاپنے تو یادگار ہیں ہم بھی

۹

میرؔ نام اک جواں سنا ہوگااسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی

۲۳۰ / ۵۸۲