کلامِ میرردیف ہ

ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ

۱

ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھتو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کچھ

۲

دل جگر جان یہ بھسمنت ہوئے سینے میںگھر کو آتش دی محبت نے جلا کیا کیا کچھ

۳

کیا کہوں تجھ سے کہ کیا دیکھا ہے تجھ میں میں نےعشوہ و غمزہ و انداز و ادا کیا کیا کچھ

۴

دل گیا ہوش گیا صبر گیا جی بھی گیاشغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ

۵

آہ مت پوچھ ستم گار کہ تجھ سے تھی ہمیںچشم لطف و کرم و مہر و وفا کیا کیا کچھ

۶

نام ہیں خستہ و آوارہ و بدنام مرےایک عالم نے غرض مجھ کو کہا کیا کیا کچھ

۷

طرفہ صحبت ہے کہ سنتا نہیں تو ایک مریواسطے تیرے سنا میں نے سنا کیا کیا کچھ

۸

حسرت وصل و غم ہجر و خیال رخ دوستمر گیا میں پہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ

۹

درد دل زخم جگر کلفت غم داغ فراقآہ عالم سے مرے ساتھ چلا کیا کیا کچھ

۱۰

چشم نمناک و دل پر جگر صد پارہدولت عشق سے ہم پاس بھی تھا کیا کیا کچھ

۱۱

تجھ کو کیا بننے بگڑنے سے زمانے کے کہ یاںخاک کن کن کی ہوئی صرف بنا کیا کیا کچھ

۱۲

قبلہ و کعبہ خداوند و ملاذ و مشفقمضطرب ہو کے اسے میں نے لکھا کیا کیا کچھ

۱۳

پر کہوں کیا رقم شوق کی اپنے تاثیرہر سر حرف پہ وہ کہنے لگا کیا کیا کچھ

۱۴

ایک محروم چلے میرؔ ہمیں عالم سےورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ

۲۲۹ / ۵۸۲