کلامِ میرردیف ی

آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی

۱

آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھیدیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی

۲

بیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائےایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی

۳

کب تھا یہ شور نوحہ ترا عشق جب نہ تھادل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی

۴

وہ اور کوئی ہوگی سحر جب ہوئی قبولشرمندۂ اثر تو ہماری دعا نہ تھی

۵

آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنجلیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی

۶

دیکھے دیار حسن کے میں کارواں بہتلیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی

۷

آئی پری سی پردۂ مینا سے جام تکآنکھوں میں تیری دختر رز کیا حیا نہ تھی

۸

اس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقفمخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی

۹

پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میرؔتن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی

۲۳۱ / ۵۸۲