کلامِ میرردیف ی
اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی
۱
اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہیاپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی
۲
میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلکآتی اگرچہ دیر صدائے جرس رہی
۳
لطف قبائے تنگ پہ گل کا بجا ہے نازدیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی
۴
دن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئےبرسات اب کے شہر میں سارے برس رہی
۵
خالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئیہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی
۶
دیوانگی کہاں کہ گریباں سے تنگ ہوںگردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی
۷
جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکےفرصت رہی جو میرؔ بھی سو یک نفس رہی
۲۳۲ / ۵۸۲