کلامِ میرردیف ی
اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی
۱
اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کیاس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی
۲
ان درس گہوں میں وہ آیا نہ نظر ہم کوکیا نقل کروں خوبی اس چہرہ کتابی کی
۳
بھنتے ہیں دل اک جانب سکتے ہیں جگر یکسوہے مجلس مشتاقاں دکان کبابی کی
۴
تلخ اس لب میگوں سے سب سنتے ہیں کس خاطرتہہ دار نہیں ہوتی گفتار شرابی کی
۵
یک بو کشی بلبل ہے موجب صد مستیپر زور ہے کیا دارو غنچے کی گلابی کی
۶
اب سوز محبت سے سارے جو پھپھولے ہیںہے شکل مرے دل کی سب شیشہ حبابی کی
۷
نش مردہ مرے منہ سے یاں حرف نہیں نکلاجو بات کہ میں نے کی سو میرؔ حسابی کی
۲۳۳ / ۵۸۲