کلامِ میرردیف ی

تاب دل صرف جدائی ہو چکی

۱

تاب دل صرف جدائی ہو چکییعنی طاقت آزمائی ہو چکی

۲

چھوٹتا کب ہے اسیر خوش زباںجیتے جی اپنی رہائی ہو چکی

۳

آگے ہو مسجد کے نکلی اس کی راہشیخ سے اب پارسائی ہو چکی

۴

درمیاں ایسا نہیں اب آئینہمیرے اس کے اب صفائی ہو چکی

۵

ایک بوسہ مانگتے لڑنے لگےاتنے ہی میں آشنائی ہو چکی

۶

بیچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیارحم کر اب بے وفائی ہو چکی

۷

آج پھر تھا بے حمیت میرؔ واںکل لڑائی سی لڑائی ہو چکی

۲۳۴ / ۵۸۲