کلامِ میرردیف ی

بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی

۱

بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کیکسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی

۲

کوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوںکہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی

۳

ہمیں تو باغ کی تکلیف سے معاف رکھوکہ سیر و گشت نہیں رسم اہل ماتم کی

۴

تنک تو لطف سے کچھ کہہ کہ جاں بہ لب ہوں میںرہی ہے بات مری جان اب کوئی دم کی

۵

گزرنے کو تو کج و واکج اپنی گزرے ہےجفا جو ان نے بہت کی تو کچھ وفا کم کی

۶

گھرے ہیں درد و الم میں فراق کے ایسےکہ صبح عید بھی یاں شام ہے محرم کی

۷

قفس میں میرؔ نہیں جوش داغ سینے پرہوس نکالی ہے ہم نے بھی گل کے موسم کی

۲۳۵ / ۵۸۲