کلامِ میرردیف ی

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی

۱

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کیغموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی

۲

نگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کیحلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی

۳

سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کاپڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی

۴

جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دماسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی

۵

نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میںگیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی

۶

نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھےحقیقت کچھ نہ پوچھو پیر کنعاں کی بصارت کی

۷

ترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھابیاباں میں غبار میرؔ کی ہم نے زیارت کی

۲۳۶ / ۵۸۲