کلامِ میرردیف ی

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

۱

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئیصحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

۲

واشد کچھ آگے آہ سی ہوتی تھی دل کے تئیںاقلیم عاشقی کی ہوا اب بگڑ گئی

۳

گرمی نے دل کی ہجر میں اس کے جلا دیاشاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی

۴

خط نے نکل کے نقش دلوں کے اٹھا دیئےصورت بتوں کی اچھی جو تھی سب بگڑ گئی

۵

باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرمکاہے کو میرؔ کوئی دبے جب بگڑ گئی

۲۳۷ / ۵۸۲