کلامِ میرردیف ی

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

۱

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میرینہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری

۲

برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہاخبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری

۳

ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاسہزار جائے گئی طبع بدگماں میری

۴

وہ نقش پئے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میںنہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہ رواں میری

۵

شب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پرکہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری

۶

اسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھاگئی یہ عمر عزیز آہ رائیگاں میری

۷

ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کاگئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری

۸

نہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہکہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری

۹

رہا میں در پس دیوار باغ مدت لیکگئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری

۱۰

ہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیرنہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری

۱۱

دیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میرؔپڑی جہان میں جا کر نظر جہاں میری

۲۳۹ / ۵۸۲