کلامِ میرردیف ی

عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی

۱

عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئیآخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی

۲

عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبحدن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی

۳

لوح سینہ پر مری سو نیزۂ خطی لگےخستگی اس دل شکستہ کی اسی بابت ہوئی

۴

کھولتے ہی آنکھیں پھر یاں موندنی ہم کو پڑیںدید کیا کوئی کرے وہ کس قدر مہلت ہوئی

۵

پاؤں میرا کلبۂ احزاں میں اب رہتا نہیںرفتہ رفتہ اس طرف جانے کی مجھ کو لت ہوئی

۶

مر گیا آوارہ ہو کر میں تو جیسے گرد بادپر جسے یہ واقعہ پہنچا اسے وحشت ہوئی

۷

شاد و خوش طالع کوئی ہوگا کسو کو چاہ کرمیں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی

۸

دل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوںگزرے اس بھی سانحے کو ہم نشیں مدت ہوئی

۹

شوق دل ہم نا توانوں کا لکھا جاتا ہے کباب تلک آپ ہی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی

۱۰

کیا کف دست ایک میداں تھا بیاباں عشق کاجان سے جب اس میں گزرے تب ہمیں راحت ہوئی

۱۱

یوں تو ہم عاجز ترین خلق عالم ہیں ولےدیکھیو قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئی

۱۲

گوش زد چٹ پٹ ہی مرنا عشق میں اپنے ہواکس کو اس بیماری جانکاہ سے فرصت ہوئی

۱۳

بے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو سو چپ رہ جائیں گےمعرکے میں حشر کے گر بات کی رخصت ہوئی

۱۴

ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہلچاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی

۱۵

اس غزل پر شام سے تو صوفیوں کو وجد تھاپھر نہیں معلوم کچھ مجلس کی کیا حالت ہوئی

۱۶

کم کسو کو میرؔ کی میت کی ہاتھ آئی نمازنعش پر اس بے سر و پا کی بلا کثرت ہوئی

۲۴۰ / ۵۸۲