کلامِ میرردیف ی

مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی

۱

مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئیبے قراری کو جانے تب کوئی

۲

ہاں خدا مغفرت کرے اس کوصبر مرحوم تھا عجب کوئی

۳

جان دے گو مسیح پر اس سےبات کہتے ہیں تیرے لب کوئی

۴

بعد میرے ہی ہو گیا سنسانسونے پایا تھا ورنہ کب کوئی

۵

اس کے کوچے میں حشر تھے مجھ تکآہ و نالہ کرے نہ اب کوئی

۶

ایک غم میں ہوں میں ہی عالم میںیوں تو شاداں ہے اور سب کوئی

۷

نا سمجھ یوں خفا بھی ہوتا ہےمجھ سے مخلص سے بے سبب کوئی

۸

اور محزوں بھی ہم سنے تھے ولےمیرؔ سا ہو سکے ہے کب کوئی

۹

کہ تلفظ طرب کا سن کے کہےشخص ہوگا کہیں طرب کوئی

۲۴۱ / ۵۸۲