کلامِ میرردیف ی
میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کیاللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیںخاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاجاپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی
مینہ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نےاسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھاپر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی
کر کے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہےوہ نظر پاؤں پہ وہ بات دوانی اس کی
اس کا وہ عجز تمہارا یہ غرور خوبیمنتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہاررقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
سرگزشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھاسو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیئے لوگوں کوشہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمہاری تلوارکیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہےدردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصلحیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی
۲۴۳ / ۵۸۲