کلامِ میرردیف ی

کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی

۱

کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئیشاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی

۲

دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھےجو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

۳

مغرور بہت تھے ہم آنسو کی سرایت پرسو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی

۴

گل بار کرے ہے گا اسباب سفر شایدغنچے کی طرح بلبل دلگیر نظر آئی

۵

اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یاروکچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی

۲۴۴ / ۵۸۲